14 ستمبر 2026 - 14:08
جنوبی لبنان کی سلامتی لبنان کی سلامتی سے الگ نہیں

لبنان کے ممتاز جعفری مفتی شیخ احمد قبلان نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان کی سلامتی، ملک کی سلامتی اور خودمختاری سے جدا نہیں کی جا سکتی، جبکہ جنوب کو نظر انداز کرنا لبنان کی قومی وحدت اور مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، شیخ احمد قبلان نے لبنانی عوام کے نام اپنے پیغام میں جنوبی لبنان کی صورتحال سے متعلق حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس کے جنوب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جنوبی لبنان کی سلامتی اور ملک کی سلامتی و خودمختاری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومت جنوب کا دفاع نہیں کرنا چاہتی، بلکہ ایسی پالیسیاں بھی تشویش کا باعث ہیں جو جنوبی علاقوں کو دباؤ میں لا رہی ہیں، انہیں محاصرے اور مشکلات سے دوچار کر رہی ہیں اور وہاں زندگی اور امدادی سرگرمیوں کے لیے حالات پیدا ہونے سے روک رہی ہیں۔

لبنان کے جعفری مفتی نے جنوبی لبنان کو ملک کا بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوب کو درپیش خطرہ دراصل لبنان، قومی شراکت، داخلی سلامتی اور ریاست کے تاریخی منصوبے کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے بقول حکومت کو ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے بجائے داخلی اختلافات اور جنوبی محاذ کو حکومتی معاملات سے الگ کرنے کی کوششوں میں الجھایا جا رہا ہے۔

شیخ احمد قبلان نے کہا کہ جنوبی لبنان کا دفاع وجودی، قومی اور خودمختاری کی ضرورت ہے اور اس راستے میں مزاحمت کا کردار لبنان کے دفاع میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کی قربانیوں نے اسرائیل کو لبنان پر غلبہ حاصل کرنے اور اس ملک کی تاریخی و عوامی شناخت کو ختم کرنے سے روکا ہے۔ ان کے مطابق لبنان کی سلامتی تقسیم نہیں کی جا سکتی اور جنوبی لبنان ہی اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کون سا لبنانی اور کون سا سیاسی دھڑا قومی فریم ورک سے کتنا وابستہ ہے۔

قبلان نے کہا کہ موجودہ بحران کے حل کے لیے قومی مؤقف اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ داخلی تقسیم میں مزید اضافہ اور جنوبی لبنان کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ حکومت خودمختاری اور فیصلہ کن قومی معاملات میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہو، نہ کہ لبنان کی سلامتی کو بیرونی سکیورٹی منصوبوں اور مصلحتوں سے جوڑ دے۔

شیخ احمد قبلان نے علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے امریکا کو شکست کی جانب گامزن قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق پیش رفت ایک غیر معمولی علاقائی اور بین الاقوامی زلزلے کی علامت ہے۔

انہوں نے موجودہ پالیسیوں کے لبنان پر ممکنہ اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں سیاسی اور قومی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

قبلان نے آخر میں کہا کہ جنوبی لبنان ملک کے لیے ایک بنیادی اور ناقابلِ نظرانداز مسئلہ ہے، قومی شراکت جنوب سے شروع ہوتی ہے اور جنوب کے بغیر نہ سیاسی شراکت کا کوئی مفہوم ہے اور نہ قومی یکجہتی کا۔

انہوں نے لبنان کے دفاع میں مزاحمت، حزب اللہ اور تحریک امل کی قربانیوں اور کردار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان اور وہاں کے عوام دباؤ اور خطرات کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha